صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۲ - غیر اولی الضرر کا نزول
غیر اولی الضرر: معذور مؤمن کے عذر کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱۲
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 كَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ " .
براء روایت:
جب یہ آیت اتری «لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» (۴-النسآء:۹۵) تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تب «غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» (۴-النسآء:۹۵) اترا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۲ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے معنی کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت لا يستوي القاعدون من المؤمنين نازل ہوئی تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، پھر غیر اولی الضرر نازل ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی عذر رکھنے والے مؤمن کا معاملہ بغیر عذر بیٹھنے والے جیسا نہیں۔ حدیث میں معذوری، عذر، اور اللہ کی طرف سے بندوں کی حالت کا خیال رکھنے کا پہلو نمایاں ہے۔ یہاں خاص طور پر نابینائی کے عذر کا ذکر ہے، اس لیے شرح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ اس حدیث کو لوگ عموماً غیر اولی الضرر، معذور کا عذر، سورۃ النساء آیت 95، اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آیت میں معذور مؤمنین کے عذر کو الگ بیان کیا گیا۔
- ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنا عذر پیش کیا۔
- دینی حکم سمجھتے وقت حقیقی عذر کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔
- حدیث کا مضمون مختصر ہے، اس لیے تشریح بھی اسی کے مطابق ہونی چاہیے۔
