صحیح مسلم حدیث ۴۹۹۰ - کچلی والے جانور کا حکم
کچلی والے جانور کا گوشت: مختصر مگر واضح حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۹۰
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " .
ثعلبہ حشنی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۹۰ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس کا حکم صاف ہے۔ سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ اس میں لمبی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ ایک اصول بتایا گیا ہے۔ کچلی والے درندے سے مراد وہ جانور ہے جو اپنے نوکیلے دانتوں سے شکار کرتا ہے۔ حلال غذا کے بارے میں یہ حدیث عام مسلمان کے لیے آسان رہنمائی ہے کہ گوشت کھاتے وقت جانور کی قسم دیکھی جائے۔ ہر جانور کا گوشت ایک جیسا حکم نہیں رکھتا۔ اس لیے مسلمان کو کھانے میں دین کی دی ہوئی حد کو اہم سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے۔
- حلال غذا میں جانور کی قسم دیکھی جاتی ہے۔
- مختصر حدیث بھی واضح عملی حکم دے سکتی ہے۔
- کھانے کے معاملات میں دینی حد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
