حدیث ۴۳۲۴
سنن نسائی : ۴۳۲۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۳۲۴
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ ؟ ، فَقَالَ : " أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا ، وَأَقِطًا ، وَأَضُبًّا ، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ ، وَالْأَقِطِ ، وَتَرَكَ الضِّبَابَ تَقَذُّرًا لَهُنَّ ، فَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ان سے ضب کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ام حفید (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی پنیر اور ضب بھیجا تو آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دیا، لیکن اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ آپ اسے کھانے کا حکم دیتے۔
