صحیح مسلم حدیث ۴۹۹۹ - جیش الخبط اور عنبر
جیش الخبط کی حدیث: بھوک، صبر اور عنبر کا رزق
صحیح مسلم : ۴۹۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۹۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةِ رَاكِبٍ ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهَا حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا ، قَالَ : فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَنَصَبَهُ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ جَمَلٍ ، فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ فَمَرَّ تَحْتَهُ ، قَالَ : وَجَلَسَ فِي حَجَاجِ عَيْنِهِ نَفَرٌ ، قَالَ : وَأَخْرَجْنَا مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ كَذَا وَكَذَا قُلَّةَ وَدَكٍ ، قَالَ : وَكَانَ مَعَنَا جِرَابٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ " يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ " .
جابر روایت:
ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا اور ہم تین سو سوار تھے اور ہمارے سردار ابوعبیدہ بن الجراح تھے، ہم قریش کے قافلہ کو تاک رہے تھے، تو ہم سمندر کے کنارے آدھے مہینے تک پڑے رہے اور وہاں سخت بھوکے ہوئے یہاں تک کہ پتے کھانے لگے اور اس لشکر کا نام یہی ہو گیا پتوں کا لشکر، پھر سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور پھینکا جس کو عنبر کہتے ہیں، اس میں سے آدھے مہینے تک کھاتے رہے، اور اس کی چربی بدن پر ملتے رہے، یہاں تک کہ ہم زور دار ہو گئے، پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی لے کر کھڑی کی اور سب سے زیادہ لمبا آدمی لشکر میں دیکھا، اور سب سے زیادہ لمبا اونٹ اس آدمی کو اس اونٹ پر سوار کیا، وہ اس کی پسلی کے تلے سے نکل گیا، اور اس کی آنکھ کے حلقہ میں کئی آدمی بیٹھ گئے۔جابر نے کہا ہم نے اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے اتنے گھڑے چربی کے نکالے اور ہمارے ساتھ (اس جانور کے ملنے سے پہلے) ایک تھیلہ تھا کھجور کا تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک مٹھی کھجور دیا کرتے، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے، جب وہ بھی نہ ملی، تو ہم کو معلوم ہوا اس کا نہ ملنا۔ (یعنی ایک کھجور سے کیا ہوتا ہے پھر جب وہ بھی نہ رہی اس وقت معلوم ہوا کہ ایک کھجور بھی غنیمت تھی)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ جیش الخبط کا حال بیان کرتے ہیں۔ تین سو سوار تھے، سردار ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھے، اور مقصد قریش کے قافلے پر نظر رکھنا تھا۔ ساحل پر سخت بھوک لگی، یہاں تک کہ پتے کھائے گئے، اسی وجہ سے اس لشکر کو جیش الخبط کہا گیا۔ پھر سمندر نے ایک بڑا جانور پھینکا جسے عنبر کہا گیا۔ صحابہ نے آدھے مہینے تک اس سے کھایا اور اس کی چربی استعمال کی، یہاں تک کہ ان کے جسم سنبھل گئے۔ حدیث میں کھجور کے تھیلے کا بھی ذکر ہے؛ پہلے مٹھی بھر کھجور ملتی تھی، پھر ایک ایک کھجور، اور جب وہ بھی ختم ہوئی تو اس کی قدر معلوم ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل سفر میں صحابہ نے بھوک کو صبر سے برداشت کیا۔
- کم رزق کی قدر اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب وہ ختم ہو جائے۔
- سمندر سے ملنے والا عنبر اس لشکر کے لیے خوراک بنا۔
- جماعتی سفر میں امیر کا نظم اور تقسیم اہم ہوتی ہے۔
