حدیث ۴۹۹۸
صحیح مسلم : ۴۹۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۹۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً ، قَالَ : فَقُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا ؟ ، قَالَ : نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ ، فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ ، فَنَأْكُلُهُ ، قَالَ : وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَإِذَا هِيَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَيْتَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : لَا ، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا ، قَالَ : فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا ، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا ، قَالَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ ، فَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا ، فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ ؟ ، فَتُطْعِمُونَا " ، قَالَ : فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بھیجا اور ہمارا سردار سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بنایا تاکہ ہم ملیں قریش کے قافلہ سے اور ہمارے توشے کے لیے ایک تھیلہ کھجور کا دیا اس کے علاوہ اور کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ملا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہم کو ایک ایک کھجور (ہر روز) دیا کرتے تھے۔ ابوالزبیر نے کہا: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم ایک کھجور کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اس کو چوس لیتے تھے بچہ کی طرح پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے۔ وہ ہم کو سارے دن رات کو کافی ہو جاتی اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے پھر اس کو پانی میں تر کرتے اور کھاتے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم گئے سمندر کے کنارے پر وہاں ایک لمبی سی موٹی چیز نمودار ہوئی ہم اس کے پاس گئے دیکھا تو وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے۔ پھر کہنے لگے: نہیں ہم اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم بے قرار ہو رہے ہو (بھوک کے مارے) تو کھاؤ اس کو۔ جابر نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے۔ (اس کا گوشت کھایا کرتے) یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے۔ جابر نے کہا: تم دیکھو ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے بھرتے اور اس میں بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے۔ آخر ابوعبیدہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا تو وہ سب اس کی آنکھ کے حلقے کے اندر بیٹھ گئے اور ایک پسلی اس کی پسلیوں میں سے اٹھا کر کھڑی کی پھر سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھا، ان اونٹوں میں سے جو ہمارے ساتھ تھے، وہ اس کے تلے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں سے «وشائق» بنا لئے توشہ کے واسطہ ( «وشائق» جمع ہے «وشيقه» کی «وشيقه» وہ ابلا ہوا گوشت جو سفر کے لئے رکھتے ہیں)۔ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کا رزق تھا جو تمہارے لئے اس نے نکالا تھا اب تمہارے پاس کچھ ہے اس کا گوشت تو ہم کو بھی کھلاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اس کا گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھایا۔
