صحیح مسلم حدیث ۵۰۰۲ - ایک کھجور پر صبر اور قیادت
ایک کھجور کی حدیث: صبر، قیادت اور عادلانہ تقسیم
صحیح مسلم : ۵۰۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۰۲
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَفَنِيَ زَادُهُمْ ، فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فِي مِزْوَدٍ ، فَكَانَ يُقَوِّتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تین سو آدمیوں کا اور ان کا سردار ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو کیا ان کا توشہ تمام ہو گیا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سب کے توشے توشہ دان میں اکٹھا کئے اور ہر روز ہم کو ایک کھجور دیا کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تین سو آدمیوں کا ایک لشکر بھیجا اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ جب لوگوں کا توشہ ختم ہونے لگا تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سب کا سامان ایک جگہ جمع کیا، پھر روزانہ ہر شخص کو ایک کھجور دیتے تھے۔ یہ روایت بہت سادہ زبان میں قیادت، قناعت اور مشکل وقت کی تقسیم کا سبق دیتی ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ جب وسائل کم ہوں تو امیر کو امانت، انصاف اور سمجھ داری سے کام لینا چاہیے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک کھجور پر گزارا کیا، اس لیے یہ حدیث صبر کی حدیث، ایک کھجور والی حدیث اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی قیادت کے نام سے بھی تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کم وسائل ہوں تو انہیں انصاف سے تقسیم کرنا چاہیے۔
- قیادت کا کام لوگوں کے سامان اور ضرورت کا خیال رکھنا بھی ہے۔
- مشکل وقت میں قناعت اور صبر سے جماعت محفوظ رہتی ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے تنگی کے باوجود نظم برقرار رکھا۔
