صحیح مسلم حدیث ۵۰۰۳ - سمندری رزق اور لشکر کا کھانا

سمندر کنارے لشکر کی حدیث: رزق، صبر اور مشکل وقت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۰۳

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ وَسَاقُوا جَمِيعًا بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ ، كَنَحْوِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، فَأَكَلَ مِنْهَا الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، میں بھی اس میں تھا سمندر کے کنارے پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح اس میں یہ ہے کہ لوگوں نے اٹھارہ دن تک اس جانور کا گوشت کھایا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۰۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور وہ خود بھی اس میں شامل تھے۔ لشکر سمندر کے کنارے گیا۔ روایت میں پہلے والی حدیث کی طرح واقعہ بیان ہوا، مگر اس میں خاص طور پر یہ بات آئی ہے کہ لوگوں نے اس جانور کا گوشت اٹھارہ دن تک کھایا۔ اس متن میں جانور کی مزید تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اسی حد تک بات کرنا بہتر ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ سخت سفر اور کمی کے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کے راستے بن سکتے ہیں۔ یہ حدیث سمندری رزق، لشکر کا کھانا، اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے طور پر تلاش کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل سفر میں رزق کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
  • جماعت نے ایک دستیاب نعمت سے کئی دن فائدہ اٹھایا۔
  • روایت میں جو مقدار آئی ہے، اسی پر بات محدود رکھنی چاہیے۔
  • سخت حالات میں صبر اور مل کر چلنا اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں