صحیح مسلم حدیث ۵۰۰۱ - سفر میں زادِ راہ اور نظم کی حدیث

زادِ راہ کی حدیث: سفر، صبر اور جماعتی نظم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۰۱

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بھیجا ہم تین سو آدمی تھے۔ اور ہمارا توشہ ہماری گردنوں پر تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۰۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تین سو آدمیوں کو ایک مہم پر بھیجا، اور ہر شخص اپنا توشہ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے تھا۔ اس سے ہمیں سفر میں زادِ راہ، ذمہ داری اور جماعتی نظم کی ایک سادہ مگر مضبوط تصویر ملتی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حکم ملنے پر نکلنا قبول کیا اور اپنے سامان کا بوجھ خود اٹھایا۔ اس حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، مگر پیغام صاف ہے: دینی کام یا اجتماعی کام میں سہولت کے ساتھ ساتھ برداشت بھی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس روایت کو زاد راہ کی حدیث، سفر کی حدیث اور جماعتی نظم کی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اجتماعی کام میں ہر فرد اپنی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔
  • سفر یا مہم میں کم سامان کے باوجود نظم برقرار رکھنا ضروری ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عملی اطاعت دکھائی۔
  • مشکل حالات میں صبر اور سادگی کے ساتھ کام جاری رکھا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں