صحیح مسلم حدیث ۵۰ - جھوٹے راویوں سے بچو
جھوٹے راویوں سے بچنے کی صاف نصیحت
صحیح مسلم : ۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا إِبْرَاهِيمُ إِيَّاكُمْ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحِيمِ ، فَإِنَّهُمَا كَذَّابَانِ ،
ابن عون روایت:
ہم سے کہا ابراہیم نے، بچو تم مغیرہ بن سعید اور ابوعبدالرحیم سے وہ دونوں جھوٹے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ابراہیم نے اپنے شاگردوں کو واضح الفاظ میں کہا کہ مغیرہ بن سعید اور ابوعبدالرحیم سے بچو، کیونکہ وہ دونوں جھوٹے ہیں۔ یہ جملہ مختصر ہے مگر حدیث کی تحقیق میں بہت بڑا اصول بتاتا ہے۔ دین کی بات ہر شخص سے نہیں لی جاتی۔ اگر کسی راوی کے بارے میں اہل علم کو معلوم ہو کہ وہ جھوٹ بولتا ہے تو لوگوں کو اس سے خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ غصے یا ذاتی مخالفت کی بات نہیں، بلکہ حدیث کی سند کو بچانے کی کوشش ہے۔ جھوٹے راوی سے روایت لینے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ غلط بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دین کی طرف منسوب ہو جائے۔ اسی لیے جرح و تعدیل میں ایسے راویوں کی نشاندہی کی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹے راوی سے بچنے کی نصیحت علم کی حفاظت کے لیے ہے۔
- دینی بات ہر سنانے والے سے قبول نہیں کی جاتی۔
- اہل علم کی تنبیہ کو روایت کے معاملے میں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- حدیث کی سند میں سچائی بنیادی معیار ہے۔
