صحیح مسلم حدیث ۵۰۰ - میرے باپ اور تیرے باپ جہنم میں
آخرت کے انجام کا سوال اور نبی صلى الله عليه وسلم کا صاف جواب
صحیح مسلم : ۵۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۰
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : فِي النَّارِ ، فَلَمَّا قَفَّى ، دَعَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ " .
انس روایت:
ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ میں۔“ جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا اور فرمایا: ”میرا باپ اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: دوزخ میں۔ جب وہ شخص واپس جانے لگا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے بلوایا اور فرمایا: میرا باپ اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اس میں آخرت کے معاملے کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں ہمیں صرف وہی بات کہنی چاہیے جو حدیث میں آئی ہے، یعنی نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک خاص سوال کے جواب میں یہ خبر دی۔ اس حدیث کو بیان کرتے وقت نرم لہجہ اور احتیاط ضروری ہے، کیونکہ یہ کسی عام بحث کے لیے نہیں بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کے بیان کردہ ایک مخصوص واقعے کی روایت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت کا انجام اللہ کے حکم اور علم کے تابع ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال کے جواب میں صاف اور مختصر بات فرمائی۔
- ایسی روایات بیان کرتے وقت احتیاط اور ادب ضروری ہے۔
