حدیث ۴۹۹

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۹

حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ : رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي سورة إبراهيم آية 36 الآيَةَ ، وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، وَبَكَى ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ ، وَهُوَ أَعْلَمُ ، فَقَالَ اللَّهُ : يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ ، فَقُلْ : إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوؤُكَ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بن عاص سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی جس میں ابراہیم علیہ السلام کا قول ہے: «رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي» ”اے رب! انہوں نے بہکایا (یعنی بتوں نے) بہت لوگوں کو، سو جو کوئی میری راہ پر چلا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا سو تو بخشنے والا مہربان ہے۔“ اور یہ آیت جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے: «إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ”اگر تو ان کو عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور جو تو ان کو بخش دے تو تو مالک ہے حکمت والا۔“ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا: «اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي» ”اے پروردگار میرے! امت میری، امت میری۔ اور رونے لگے“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور رب تیرا خوب جانتا ہے لیکن تم جا کر ان سے پوچھو وہ کیوں روتے ہیں؟ جبرائیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: آپ کیوں روتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب حال بیان کیا جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے جا کر عرض کیا: حالانکہ وہ خوب جانتا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے جبرئیل! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جا اور کہہ ہم تم کو خوش کر دیں گے تمہاری امت میں اور ناراض نہیں کریں گے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں