صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۲ - کنکری پھینکنے کا نقصان: دانت اور آنکھ
کنکری پھینکنے سے ممانعت: دانت ٹوٹنے اور آنکھ پھوٹنے کا خطرہ
صحیح مسلم : ۵۰۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۵۲
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ " ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ لَا يَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَلَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ ، وقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : إِنَّهَا لَا تَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْقَأُ الْعَيْنَ .
عبداللہ بن مغفل روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابن جعفر کی ایک روایت میں ہے کہ اس طریقہ سے نہ دشمن مرتا ہے اور نہ ہی شکار کو قتل کرتا ہے لیکن دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے۔ اور ابن مہدی نے کہا کہ یہ طریقہ دشمن کو نہیں مارتا اور انہوں نے آنکھ کے پھوٹنے کا ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابن جعفر کی روایت میں یہ بھی بیان ہوا کہ اس طریقے سے نہ دشمن مرتا ہے اور نہ شکار قتل ہوتا ہے، لیکن یہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے۔ ابن مہدی کی روایت میں دشمن کو نہ مارنے کا ذکر ہے، مگر آنکھ کے پھوٹنے کا ذکر نہیں آیا۔ اس روایت میں خذف کے نقصان کو بہت سادہ الفاظ میں سمجھایا گیا ہے۔ بعض کام دیکھنے میں معمولی کھیل لگتے ہیں، مگر ان سے کسی کے جسم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بے فائدہ اور خطرناک حرکت سے رک جانا چاہیے، خاص طور پر جب اس کے نقصان کی صاف نشاندہی کی گئی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا۔
- اس طریقے سے شکار یا دشمن پر وہ فائدہ نہیں ہوتا جو لوگ سمجھ سکتے ہیں۔
- خذف سے دانت ٹوٹنے اور آنکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بیان ہوا ہے۔
- روایت کے الفاظ میں فرق ہو تو اسے امانت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
