صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۰ - کنکری پھینکنے سے ممانعت اور اس کا نقصان
کنکری پھینکنے کی حدیث: خذف سے منع کیوں کیا گیا؟
صحیح مسلم : ۵۰۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۵۰
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ ، فَقَالَ لَهُ : " لَا تَخْذِفْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ ، أَوَ قَالَ : يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ، فَإِنَّهُ لَا يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ وَلَا يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ ، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ ، فَقَالَ لَهُ : أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ ، لَا أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا " ،
ابن بریدہ روایت:
عبداللہ بن مغفل نے ایک شخص کو دیکھا اپنے ساتھیوں سے خذف کرتے ہوئے (خذف کنکری مارنا یا گٹھلی مارنا یا کوئی اور چیز ان کے مانند دو انگلیوں کے بیچ میں رکھ کر یا انگلی اور انگوٹھے کے بیچ میں رکھ کر) عبداللہ نے اس سے کہا: تو خذف مت کر اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکروہ جانتے تھے یا منع کرتے تھے خذف، کو کیوں کہ نہ اس سے شکار ہوتا ہے، نہ دشمن مرتا ہے، بلکہ دانت ٹوٹ جاتا ہے، یا آنکھ پھوٹ جاتی ہے۔ (جب وہ کسی کے لگ جاتا ہے)، پھر عبداللہ نے اس کو دیکھا خذف کرتے ہوئے تو کہا: میں تجھ سے حدیث بیان کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکروہ رکھتے تھے یا منع کرتے تھے خذف سے اور پھر میں دیکھتا ہوں تو خذف کیے جاتا ہے اب میں تجھ سے بات نہ کروں گا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں خذف یعنی انگلیوں سے کنکری یا گٹھلی پھینکنے کا ذکر ہے۔ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک ساتھی کو خذف کرتے دیکھا تو اسے منع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا اس سے منع کرتے تھے، کیونکہ اس طریقے سے نہ شکار ہوتا ہے اور نہ دشمن مرتا ہے، بلکہ دانت ٹوٹ جاتا ہے یا آنکھ پھوٹ جاتی ہے۔ پھر جب انہوں نے اسی شخص کو دوبارہ خذف کرتے دیکھا تو سخت ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث بتاتا ہوں اور تم پھر یہی کام کرتے ہو۔ اس حدیث کا اصل پیغام بہت واضح ہے: جو کام فائدہ کم اور نقصان زیادہ رکھتا ہو، خاص طور پر جس سے آنکھ یا دانت کو نقصان پہنچے، اس سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خذف کو ناپسند فرماتے تھے یا اس سے منع فرماتے تھے۔
- خذف سے شکار یا دشمن پر مؤثر فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ نقصان ہو سکتا ہے۔
- حدیث سننے کے بعد بھی غلط کام دہرانا سخت ناپسندیدہ رویہ ہے۔
- ایسے کھیل یا حرکت سے بچنا چاہیے جس سے کسی کی آنکھ یا دانت کو خطرہ ہو۔
