صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۳ - حدیث سن کر بھی خذف کرنے پر سخت تنبیہ
خذف سے منع کی حدیث: حدیث سن کر عمل نہ کرنے کی تنبیہ
صحیح مسلم : ۵۰۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۵۳
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ ، قَالَ : فَنَهَاهُ ، وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْخَذْفِ ، وَقَالَ : إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا ، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ " ، قَالَ : فَعَادَ ، فَقَالَ : أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ثُمَّ تَخْذِفُ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے کسی قریبی رشتہ دار نے کنکر پھینکا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا: ”اس طریقے سے نہ شکار ہوتا ہے اور نہ دشمن مرتا ہے لیکن یہ طریقہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے۔“ اس نے پھر اسی طرح کیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے اور تو پھر کنکر پھینکتا ہے میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۳ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے کنکر پھینکا۔ انہوں نے اسے منع کیا اور بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خذف سے منع فرمایا ہے۔ ساتھ ہی حدیث کا سبب بھی بیان کیا کہ اس سے نہ شکار ہوتا ہے اور نہ دشمن مرتا ہے، بلکہ یہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے۔ پھر جب اس شخص نے دوبارہ یہی کام کیا تو عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے سخت بات کہی کہ میں تمہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث بتاتا ہوں اور تم پھر کنکر پھینکتے ہو، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ اس حدیث میں خذف کا نقصان بھی ہے اور حدیث سن کر اسے نظر انداز کرنے کی سنگینی بھی۔ یہ بات دل میں بیٹھتی ہے کہ دینی نصیحت کو کھیل نہ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خذف سے منع فرمایا، اور صحابی نے اس منع کو سنجیدگی سے لیا۔
- خذف سے شکار یا دشمن کا فائدہ نہیں، مگر جسمانی نقصان ہو سکتا ہے۔
- حدیث سننے کے بعد جان بوجھ کر وہی کام کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔
- نصیحت کرنے والا اگر دینی دلیل دے تو اسے توجہ سے سننا چاہیے۔
