صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۷ - ذی الحجہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا
ذی الحجہ میں قربانی کرنے والے کے بال اور ناخن
صحیح مسلم : ۵۱۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۱۷
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا " ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ ، قَالَ : لَكِنِّي أَرْفَعُهُ .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ذی الحجہ کا عشرہ آ جائے (یعنی پہلی تاریخ شروع ہو) اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے۔“ سفیان جو راوی ہیں اس حدیث کے ان سے کسی نے کہا: بعض لوگ اس حدیث کو مرفوع نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا: میں تو مرفوع کرتا ہوں۔
صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۷ کا خلاصہ
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا عشرہ آ جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قربانی کرنے والے کے بال اور ناخن ہیں۔ متن میں قربانی کا ارادہ شرط کے طور پر آیا ہے، اس لیے بات اسی شخص سے متعلق ہے جو قربانی کرنا چاہتا ہو۔ سفیان راوی سے مرفوع ہونے کا سوال بھی ذکر ہوا، اور انہوں نے کہا کہ میں اسے مرفوع بیان کرتا ہوں۔ ذی الحجہ کے بال ناخن کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت اصل عبارت کے ساتھ واضح حکم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہونے کے بعد قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لیے حکم بیان ہوا۔
- متن میں بالوں اور ناخنوں سے کچھ نہ لینے کی بات آئی ہے۔
- راوی سفیان نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا۔
