صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۸ - قربانی موجود ہو تو بال ناخن نہ کاٹے

قربانی موجود ہو تو ذی الحجہ میں بال ناخن کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۱۸

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيم ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا " .

ام سلمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ذی الحجہ کا عشرہ آ جائے اور قربانی موجود ہو جس کو وہ قربان کرنا چاہے تو بال نہ کترائے نہ ناخن تراشے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۸ کا خلاصہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا عشرہ آ جائے اور کسی کے پاس قربانی ہو جسے وہ قربان کرنا چاہتا ہو، تو بال نہ کترائے اور ناخن نہ تراشے۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہو چکا ہو، اور آدمی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو۔ اسی لیے یہ روایت قربانی سے پہلے بال ناخن اور ذی الحجہ میں ناخن کاٹنے کا حکم جیسے سوالات میں بہت تلاش کی جاتی ہے۔ متن میں صرف بال اور ناخن کا ذکر ہے، اس لیے اسی حد میں بات رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حکم اس شخص سے متعلق ہے جس کے پاس قربانی ہو اور وہ قربان کرنا چاہے۔
  • ذی الحجہ کے عشرے کے بعد بال نہ کترانے اور ناخن نہ تراشنے کا ذکر ہے۔
  • روایت میں حکم مختصر اور صاف الفاظ میں آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں