صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۹ - ذی الحجہ کا چاند اور بال ناخن
ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بال اور ناخن کا حکم
صحیح مسلم : ۵۱۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۱۹
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور کوئی تم میں سے قربانی کرنا چاہے تو اپنے بال اور ناخن یونہی رہنے دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۹ کا خلاصہ
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو اپنے بال اور ناخن یونہی رہنے دے۔ اس حدیث میں وقت کی پہچان “ذی الحجہ کا چاند” سے بیان ہوئی ہے۔ اس لیے جو لوگ ذی الحجہ کا چاند اور قربانی کے ناخن یا قربانی سے پہلے بال کاٹنے کی حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے۔ متن میں بات قربانی کا ارادہ رکھنے والے شخص کے بارے میں ہے، ہر شخص کے بارے میں نہیں۔ اسی طرح حدیث میں بال اور ناخن کا ذکر ہے، اس سے آگے کوئی اضافی بات خود سے نہیں بڑھائی جائے گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حکم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بیان ہوا۔
- یہ بات اس شخص کے لیے ہے جو قربانی کرنا چاہے۔
- بال اور ناخن یونہی رہنے دینے کا حکم متن میں صاف آیا ہے۔
