صحیح مسلم حدیث ۵۱۶۰ - کشمش اور کھجور الگ الگ
نبیذ کی حدیث: کشمش، کھجور اور کچی کھجور کو الگ رکھیں
صحیح مسلم : ۵۱۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۶۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ، وَقَالَ : يُنْبَذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور پکی کھجوروں کو، کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر بھگونے سے منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بھگوؤ۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۱۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور پکی کھجوروں کو ملا کر بھگونے سے منع فرمایا، اور کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر بھگونے سے بھی منع فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بھگوؤ۔ یہ روایت نبیذ کے بارے میں پہلے آنے والی روایات کے مضمون کو بہت آسان الفاظ میں جمع کر دیتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مختلف چیزیں اکٹھی نہ کی جائیں۔ کشمش ہو، پکی کھجور ہو یا کچی کھجور، ہر ایک کو الگ بھگونا چاہیے۔ نبیذ کی حدیث کا یہی عملی خلاصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کشمش اور پکی کھجور کو ملا کر بھگونے سے منع کیا گیا۔
- کچی اور پکی کھجور کو بھی اکٹھا نبیذ نہ بنایا جائے۔
- حدیث میں ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بھگونے کی ہدایت ہے۔
- نبیذ کے معاملے میں ملاوٹ سے بچنا متن کا صاف پیغام ہے۔
