صحیح مسلم حدیث ۵۲ - بدعتی عقیدہ اور روایت کی احتیاط
بدعتی عقیدہ رکھنے والے راوی سے حدیث لینے کی احتیاط
صحیح مسلم : ۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ : " لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ الْجُعْفِيَّ ، فَلَمْ أَكْتُبْ عَنْهُ ، كَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ .
جریر روایت:
میں جابر بن یزید جعفى سے ملا پھر میں نے اس سے حدیث نہیں لکھی وہ یقین کرتا تھا رجعت کا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں جریر کہتے ہیں کہ وہ جابر بن یزید جعفی سے ملے، مگر اس سے حدیث نہیں لکھی، کیونکہ وہ رجعت پر یقین رکھتا تھا۔ روایت کا مرکزی سبق یہ ہے کہ محدثین صرف ملاقات یا شہرت کی وجہ سے کسی سے حدیث نہیں لیتے تھے۔ اگر کسی راوی کا عقیدہ ایسا ہو جس پر اہل علم کو سخت اعتراض ہو، تو اس کی روایت میں احتیاط کی جاتی تھی۔ یہاں جابر کے بارے میں ایک خاص وجہ بیان کی گئی ہے، اس لیے اسی حد تک بات کی جائے گی۔ حدیث کی تحقیق میں راوی کی ثقاہت، اس کا ضبط، اور اس کا دینی رجحان سب دیکھا جاتا ہے۔ یہ اصول لوگوں کو ہر مشہور راوی یا ہر زیادہ روایت کرنے والے شخص پر فوراً اعتماد کرنے سے روکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صرف کسی راوی سے ملاقات ہونا روایت لکھنے کے لیے کافی نہیں۔
- راوی کے عقیدے یا رجحان کو حدیث کی تحقیق میں دیکھا جا سکتا ہے۔
- جس شخص پر اہل علم کو اعتراض ہو، اس سے روایت لینے میں احتیاط کی جاتی ہے۔
- حدیث لکھنے سے پہلے راوی کے اعتماد کو پرکھنا چاہیے۔
