صحیح مسلم حدیث ۵۲۷۱ - مشک کے منہ سے پینے کی ممانعت

مشک کے منہ سے پینے کی ممانعت: پینے کے آداب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۷۱

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " .

ابوسعید روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ کو الٹ کر پینے سے۔ (ایسا نہ ہو کوئی کیڑا وغیرہ منہ میں چلا جائے)۔

صحیح مسلم حدیث ۵۲۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ کو الٹ کر پینے سے منع فرمایا۔ ترجمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسا نہ ہو کوئی کیڑا وغیرہ منہ میں چلا جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ پانی پینے میں بھی احتیاط اور ادب مطلوب ہے۔ آدمی کو بے دھیانی سے کسی برتن یا مشک کے منہ سے براہ راست نہیں پینا چاہیے، خاص طور پر جب اندر کی چیز نظر نہ آ رہی ہو۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام میں صفائی، احتیاط اور آرام سے پینا روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ پینے کے آداب صرف بڑے مسائل نہیں، چھوٹی عادتوں سے بھی بنتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشک کو الٹ کر اس کے منہ سے پینے سے منع کیا گیا ہے۔
  • پانی پیتے وقت احتیاط کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • ایسی عادت سے بچنا چاہیے جس میں نقصان یا گندگی کا اندیشہ ہو۔
  • پینے کے چھوٹے آداب بھی دینی تربیت کا حصہ ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں