صحیح مسلم حدیث ۵۲۷۲ - مشک کے منہ سے پانی نہ پیو

مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع کرنے والی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۷۲

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا " .

ابو سعید خدری روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کو الٹ کر ان کے منہ سے پانی پینے سے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۲۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کو الٹ کر ان کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔ یہ عمل اس وقت عام ہو سکتا تھا جب پانی مشک میں رکھا جاتا تھا۔ حدیث کا پیغام آج بھی سمجھ میں آتا ہے کہ پانی پیتے وقت برتن کے طریقے اور احتیاط کا خیال رکھا جائے۔ جب کوئی چیز بند ہو اور اندر کا حال صاف نظر نہ آئے تو سیدھا منہ لگا کر پینا مناسب نہیں۔ اس حدیث میں پینے کا ادب، احتیاط اور صفائی سب ایک ساتھ سمجھ آتے ہیں۔ مسلمان کی زندگی میں پانی پینا بھی بے ترتیب عمل نہیں، بلکہ اس میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشک کو الٹ کر اس کے منہ سے پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔
  • پانی پیتے وقت برتن کے طریقے کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • پینے میں صفائی اور احتیاط اچھی عادت ہے۔
  • روزمرہ کے کاموں میں بھی نبوی ہدایت ملتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں