صحیح مسلم حدیث ۵۲۷۳ - مشک الٹ کر پینے کی وضاحت
اختناث الاسقیہ کی وضاحت: مشک الٹ کر پینا
صحیح مسلم : ۵۲۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۷۳
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَر ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَاخْتِنَاثُهَا أَنْ يُقْلَبَ رَأْسُهَا ثُمَّ يُشْرَبَ مِنْهُ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۲۷۳ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ اختناث کا مطلب یہ ہے کہ مشک کا سر الٹ دیا جائے، پھر اس سے پیا جائے۔ اس طرح حدیث کا مفہوم زیادہ صاف ہو جاتا ہے کہ ممانعت کس عمل سے ہے۔ عام آدمی کے لیے سبق یہ ہے کہ پانی پینے میں بے احتیاطی نہ ہو۔ جب کسی مشکیزے یا بند برتن کا منہ الٹ کر براہ راست پیا جاتا ہے تو اندر کی چیز کا خیال نہیں رہتا۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ پینے کا عمل بھی آرام، صفائی اور سمجھ داری کے ساتھ ہو۔ محدثین نے صرف حکم نہیں، بلکہ مشکل لفظ کی وضاحت بھی نقل کی، تاکہ عمل آسانی سے سمجھ آ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اختناث سے مراد مشک کا سر الٹ کر اس کے منہ سے پینا ہے۔
- حدیث کے مشکل لفظ کی وضاحت سمجھنا عمل میں مدد دیتی ہے۔
- پانی پیتے وقت بے احتیاط طریقے سے بچنا چاہیے۔
- پینے کے آداب میں صفائی اور احتیاط شامل ہیں۔
