صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۱ - نوالہ گرنے کی حدیث اور کھانے کی برکت
نوالہ گرنے کی حدیث: کھانے میں برکت کا ادب
صحیح مسلم : ۵۳۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا نوالہ گر پڑے (اور وہ جائے نجس نہ ہو) تو اس کو اٹھا لے اور جو کوڑا وغیرہ لگ گیا ہو اس کو صاف کرے اور کھا لے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ رومال سے نہ پونچھے جب تک انگلیاں چاٹ نہ لے کیونکہ اس کو معلوم نہیں کون سے کھانے میں برکت ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع آدابِ طعام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اگر کسی کا نوالہ گر جائے اور جگہ ناپاک نہ ہو تو اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ جو میل یا کچرا لگ گیا ہو اسے صاف کیا جائے، پھر وہ نوالہ کھا لیا جائے۔ اس میں کھانے کی قدر بھی ہے اور شیطان کے لیے حصہ نہ چھوڑنے کی تنبیہ بھی۔ حدیث میں انگلیاں چاٹنے کی سنت بھی آئی ہے کہ ہاتھ رومال سے صاف کرنے سے پہلے انگلیاں چاٹ لی جائیں۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ انسان نہیں جانتا کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ اس لیے کھانے میں برکت کی حدیث ہمیں سادہ طریقے سے شکر، احتیاط اور رزق کی عزت سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرا ہوا نوالہ پاک ہو تو صاف کر کے کھایا جا سکتا ہے۔
- کھانے کو بلا وجہ چھوڑنا رزق کی ناقدری بن سکتا ہے۔
- ہاتھ پونچھنے سے پہلے انگلیاں چاٹنا حدیث میں بیان ہوا ہے۔
- کھانے میں برکت کس حصے میں ہے، انسان کو معلوم نہیں۔
