صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۲ - انگلیاں چاٹنے کی سنت اور رزق کا ادب

انگلیاں چاٹنے کی سنت: کھانے کے بعد ایک سادہ ادب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۲

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا وَمَا بَعْدَهُ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے جب تک چاٹ نہ لے یا چٹا نہ دے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۲ کا خلاصہ

اس روایت میں پچھلی حدیث کا مضمون آیا ہے، مگر ایک لفظی اضافہ بھی ہے کہ ہاتھ اس وقت تک نہ پونچھا جائے جب تک آدمی انگلیاں چاٹ نہ لے یا چٹا نہ دے۔ اصل بات یہی ہے کہ کھانا ختم کرنے کے فوراً بعد ہاتھ رومال سے صاف کرنے کی جلدی نہ کی جائے۔ حدیث میں کھانے میں برکت کا خیال دلایا گیا ہے۔ آدمی کو معلوم نہیں کہ برکت نوالے میں ہے، انگلی پر لگے ہوئے حصے میں ہے یا کھانے کے آخری ذرے میں۔ اس لیے انگلیاں چاٹنے کی سنت صرف ایک عادت نہیں بلکہ رزق کی قدر کرنے کا طریقہ ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزمرہ کے چھوٹے کاموں میں بھی امت کو صاف اور شکر والا انداز سکھایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے سے پہلے انگلیاں چاٹنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • حدیث رزق کے چھوٹے حصے کو بھی اہم سمجھنے کا سبق دیتی ہے۔
  • برکت کہاں ہے، اس کا علم انسان کے پاس نہیں۔
  • کھانے کے آداب میں جلد بازی کے بجائے ٹھہراؤ بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں