صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۳ - شیطان کے لیے نوالہ نہ چھوڑنے کی تعلیم
شیطان کے لیے نوالہ نہ چھوڑنا: آدابِ طعام کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۳۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۳
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ ، فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " .
جابر روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”شیطان تم میں سے ایک ایک کے پاس اس کے ہر کام کے وقت موجود رہتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی پھر جب تم میں سے کسی کا نوالہ گر پڑے تو اس کو صاف کرے کچرے وغیرہ سے جو اس میں لگ جائے پھر اس کو کھا لے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ جب کھانے سے فارغ ہو تو انگلیاں چاٹے کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کے کون سے کھانے میں برکت ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے ادب کو ایک اور انداز سے سمجھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے کاموں کے وقت حاضر ہوتا ہے، یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی۔ اسی لیے اگر نوالہ گر جائے تو اسے یوں ہی نہ چھوڑا جائے۔ جو چیز لگ گئی ہو اسے ہٹا کر کھا لیا جائے، اور شیطان کے لیے نہ چھوڑا جائے۔ کھانے کے آخر میں انگلیاں چاٹنے کا حکم بھی اسی مضمون کے ساتھ آیا ہے، کیونکہ آدمی نہیں جانتا کہ کھانے میں برکت کس حصے میں ہے۔ نوالہ گرنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کھانا صرف پیٹ بھرنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں شکر، صفائی، احتیاط اور رزق کی عزت بھی شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شیطان کھانے کے وقت بھی انسان کے قریب آ سکتا ہے۔
- گرا ہوا نوالہ صاف ہو سکتا ہو تو چھوڑنے کے بجائے کھایا جائے۔
- کھانے کے آخر میں انگلیاں چاٹنا حدیث میں آیا ہے۔
- رزق کے کسی حصے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
