صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۴ - گرا ہوا نوالہ اور کھانے کا ادب
گرا ہوا نوالہ صاف کر کے کھانا: رزق کی قدر
صحیح مسلم : ۵۳۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۴
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۴ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ جب کسی کا نوالہ گر جائے تو اسے ضائع نہ کیا جائے۔ اگر نوالے پر کوئی میل یا کچرا لگ جائے تو اسے ہٹا دیا جائے، پھر نوالہ کھا لیا جائے۔ اس میں ایک صاف پیغام ہے کہ رزق کی عزت کی جائے اور کھانے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑا جائے۔ حدیث میں کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کی بات بھی اسی سلسلے کی اہم تعلیم ہے۔ انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کھانے کا کون سا حصہ اس کے لیے باعثِ برکت ہے۔ اس لیے آدابِ طعام میں معمولی دکھنے والی باتیں بھی بڑی معنی رکھتی ہیں۔ یہ تعلیم ہمیں سادہ زندگی، شکر اور کھانے کی قدر کی طرف لے جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نوالہ گرنے پر اسے فوراً ضائع سمجھ لینا درست نہیں۔
- میل صاف کر کے نوالہ کھانا حدیث کے مطابق ہے۔
- کھانا شیطان کے لیے چھوڑنے سے منع کیا گیا ہے۔
- کھانے کے آخری ذرے تک رزق کا احترام کرنا چاہیے۔
