صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۵ - انگلیاں چاٹنا اور نوالہ اٹھانا
انگلیاں چاٹنے اور نوالہ اٹھانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۳۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَان َ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون کو مضبوط کرتی ہے۔ اس میں انگلیاں چاٹنے کا ذکر بھی ہے اور گرے ہوئے نوالے کا بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ کھانا کھاتے وقت انسان رزق کو معمولی نہ سمجھے۔ اگر نوالہ گر جائے اور اسے صاف کیا جا سکے تو اسے کھا لیا جائے۔ اسی طرح کھانے کے بعد انگلیوں پر لگا ہوا حصہ بھی ضائع نہ کیا جائے۔ یہ آدابِ طعام کی بہت عملی تعلیم ہے۔ اس میں کوئی مشکل بات نہیں، صرف توجہ چاہیے۔ کھانے میں برکت کہاں ہے، یہ انسان نہیں جانتا؛ اس لیے حدیث ہمیں رزق کے ساتھ محتاط، شکر گزار اور صاف ستھرا رویہ رکھنے کا درس دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں انگلیاں چاٹنے کا ذکر صاف طور پر آیا ہے۔
- گرا ہوا نوالہ صاف کر کے کھانے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- کھانے کو بلا وجہ چھوڑنا پسندیدہ طریقہ نہیں۔
- برکت کے خیال سے رزق کا ہر حصہ اہم سمجھنا چاہیے۔
