صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۷ - کون سی انگلی میں برکت ہے
کون سی انگلی میں برکت ہے؟ انگلیاں چاٹنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۳۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۷
(حديث موقوف) وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے۔ کیونکہ اس کو معلوم نہیں کون سی انگلی میں برکت ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بات بہت مختصر مگر گہری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ کون سی انگلی میں برکت ہے۔ یہاں اصل سبق کھانے میں برکت اور رزق کی قدر کا ہے۔ آدمی عموماً کھانے کے بعد ہاتھ فوراً صاف کر لیتا ہے، مگر حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انگلیوں پر لگا ہوا کھانا بھی اللہ کے رزق کا حصہ ہے۔ اسے حقیر نہ سمجھا جائے۔ انگلیاں چاٹنے کی سنت انسان کو شکر، صفائی اور احتیاط کے ساتھ کھانے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ اس روایت میں گرے ہوئے نوالے کا ذکر نہیں، بلکہ خاص طور پر انگلیوں کی برکت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا حکم اس روایت میں آیا ہے۔
- انسان نہیں جانتا کہ کون سی انگلی میں برکت ہے۔
- انگلی پر لگا کھانا بھی رزق کا حصہ ہے۔
- کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے میں سنت کے ادب کا خیال رکھنا چاہیے۔
