صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۸ - پیالہ پونچھنا اور کھانے کی برکت

پیالہ پونچھنے کی حدیث: کھانے میں برکت کا خیال

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۸

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمُ الصَّحْفَةَ ، وَقَالَ : فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ أَوْ يُبَارَكُ لَكُمْ .

حماد روایت:

حماد سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ”پونچھ لے تم میں سے کوئی ایک پیالہ کو۔“ اور فرمایا: ”کون سے کھانے میں برکت ہے یا برکت ہوتی ہے تمہارے لیے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۸ کا خلاصہ

اس روایت میں پہلے مضمون کے ساتھ یہ اضافہ بھی آیا ہے کہ تم میں سے کوئی پیالہ پونچھ لے۔ پھر برکت کے بارے میں فرمایا گیا کہ تم نہیں جانتے تمہارے کس کھانے میں برکت ہے یا کس حصے میں تمہارے لیے برکت رکھی گئی ہے۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ آدابِ طعام صرف کھانے کے شروع تک محدود نہیں، بلکہ آخر تک چلتے ہیں۔ پیالہ صاف کرنا، انگلیاں چاٹنا اور گرے ہوئے نوالے کو صاف کر کے کھانا سب اسی سوچ کو مضبوط کرتے ہیں کہ رزق ضائع نہ ہو۔ کھانے میں برکت کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ چھوٹا سا بچا ہوا حصہ بھی اہم ہو سکتا ہے، اس لیے اسے بے وقعت نہ سمجھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پیالہ پونچھنے کا حکم کھانے کے ادب میں شامل ہے۔
  • کھانے کی برکت کس حصے میں ہے، انسان کو معلوم نہیں۔
  • رزق کے بچے ہوئے حصے کو ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔
  • کھانے کے آخر میں بھی شکر اور احتیاط کا انداز رہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں