صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۹ - دعوت کے آداب اور مہمان کی اجازت

دعوت کے آداب: مہمان کے ساتھ آنے والے کے لیے اجازت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وتقاربا في اللفظ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ وَيْحَكَ اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ نَفَرٍ ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، قَالَ : فَصَنَعَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَاهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا اتَّبَعَنَا ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ ، وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ " ، قَالَ : لَا بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .

ابومسعود روایت:

انصار میں ایک مرد تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اس کا ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ اس مرد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک معلوم ہوئی، اس نے اپنے غلام سے کہا: ارے ہم پانچ آدمیوں کے لیے کھانا تیار کر، کیونکہ میں چاہتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں ہیں پانچ آدمیوں کے، پھر اس نے کھانا تیار کیا اور وہ مرد پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں تھے پانچ کے۔ان کے ساتھ ایک اور آدمی ہو گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر پہنچے تو فرمایا: ”(صاحب خانہ سے) یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے اگر تو چاہے تو اس کو اجازت دے ورنہ یہ لوٹ جائے گا۔“ اس نے کہا: نہیں، میں اس کو اجازت دیتا ہوں یا رسول!

صحیح مسلم حدیث ۵۳۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع دعوت کے آداب ہے۔ ابوشعیب نامی انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کا اثر دیکھا تو پانچ افراد کے لیے کھانا تیار کرایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوت پر تشریف لے گئے تو راستے میں ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا۔ دروازے پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبِ خانہ کو صاف بتایا کہ یہ شخص ہمارے ساتھ آ گیا ہے، اگر تم اجازت دو تو آئے، ورنہ واپس چلا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت میں صاحبِ خانہ کے حق کا خیال رکھا جائے۔ محبت اپنی جگہ، مگر کھانے کی مقدار اور میزبان کی گنجائش کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ یہ حدیث مہمان کی اجازت، نرمی اور صاف بات کرنے کا خوبصورت سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت میں اصل حق صاحبِ خانہ کی اجازت کا ہے۔
  • ساتھ آنے والے غیر مدعو شخص کے لیے میزبان سے پوچھنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میزبان کو اختیار دیا۔
  • میزبان نے خوش دلی سے اضافی شخص کو اجازت دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں