صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۰ - دعوت میں اجازت اور میزبان کا حق
میزبان کا حق: دعوت میں اجازت لینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۳۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۰
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَاه نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ،
ابومسعود روایت:
ان اسناد کے ساتھ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث جریر کی حدیث کی طرح نقل کی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۰ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی واقعے کو بیان کرتی ہے جس میں ابوشعیب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا تھا۔ کھانا خاص تعداد کے لیے تیار کیا گیا تھا، مگر ایک اور شخص ساتھ چل پڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر میزبان سے اجازت طلب کی اور اسے اختیار دیا کہ چاہے تو اجازت دے، چاہے تو وہ شخص واپس چلا جائے۔ دعوت کے آداب حدیث میں یہ پہلو بہت اہم ہے کہ مہمان اپنی طرف سے میزبان پر بوجھ نہ ڈالے۔ اگر کوئی ساتھ آ جائے تو معاملہ صاف کر دیا جائے۔ اس میں شرمندگی نہیں، بلکہ ادب ہے۔ اس روایت سے نرمی، شفاف بات اور میزبان کی گنجائش کا لحاظ سیکھنے کو ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانے کی دعوت میں میزبان کی گنجائش کا خیال رکھا جائے۔
- غیر مدعو شخص کو خود بخود شامل سمجھنا مناسب نہیں۔
- اجازت مانگنا ادب اور نرمی کا طریقہ ہے۔
- میزبان کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا۔
