صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۱ - مہمان داری اور اجازت کا ادب
مہمان داری کا ادب: ساتھ آنے والے شخص کے لیے پوچھنا
صحیح مسلم : ۵۳۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّاد ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ابومسعود روایت:
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور اعمش ابوسفیان سے جابر کی حدیث کی طرح نقل کرتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۱ کا خلاصہ
یہ روایت ابومسعود رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی گئی اور راستے میں ایک شخص ساتھ ہو گیا۔ حدیث کا اہم نکتہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبِ خانہ کی اجازت کے بغیر اس شخص کو دعوت میں شامل نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میزبان سے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ آ گیا ہے، تم چاہو تو اجازت دو اور چاہو تو واپس ہو جائے۔ اس سے دعوت کے آداب بہت صاف سمجھ آتے ہیں۔ مہمان کو میزبان کی حالت، کھانے کی مقدار اور پہلے سے کی گئی تیاری کا لحاظ کرنا چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مہمان داری میں محبت کے ساتھ نظم اور اجازت بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہمان کے ساتھ آنے والے شخص کے لیے اجازت لی گئی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میزبان پر دباؤ نہیں ڈالا۔
- دعوت میں پہلے سے طے تعداد کا لحاظ رکھا گیا۔
- صاف بات کرنا بہت سے مسائل سے بچا دیتا ہے۔
