صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۲ - اہلِ خانہ کا خیال اور دعوت کا ادب

دعوت میں اہلِ خانہ کا خیال: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۲

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ ، فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ ، فَقَالَ : وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، فَعَادَ يَدْعُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ : لَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ : نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ ، فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہمسایہ شوربہ عمدہ بناتا تھا وہ فارس کا تھا، اس نے ایک بار شوربہ بنایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کی بھی دعوت ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں بھی نہیں آتا۔“پھر وہ دوبارہ بلانے کو آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کی بھی دعوت ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں بھی نہیں آتا۔“ پھر سہ بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کی بھی دعوت ہے۔؟“ وہ بولا: (تیسری بار میں) ہاں۔ پھر دونوں چلے ایک دوسرے کے پیچھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) یہاں تک کہ اس کے مکان پر پہنچے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک فارسی پڑوسی کا واقعہ ہے جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی دعوت میں شامل ہیں؟ اس نے پہلے دو بار نہیں کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آنے سے انکار کر دیا۔ تیسری بار جب اس نے ہاں کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں اس کے گھر تشریف لے گئے۔ اس حدیث کا موضوع دعوت کے آداب اور اہلِ خانہ کا خیال ہے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بس اتنا واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنی زوجہ کو نظر انداز نہیں کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت میں بعض اوقات اہلِ خانہ کا خیال رکھنا اہم ہوتا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔
  • میزبان نے جب انہیں بھی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔
  • حدیث میں نرم انداز سے انکار اور پھر قبول کرنے کا واقعہ آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں