حدیث ۵۳۱۳

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۳

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " ، قَالَا : الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا " ، فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ ، قَالَتْ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ فُلَانٌ ؟ ، قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ ، فَقَالَ : كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " ، فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ ، وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا ، فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ، ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ پوچھا: ”تم کیوں نکلے اس وقت۔“ انہوں نے کہا: بھوک کے مارے نکلے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں بھی اسی وجہ سے نکلا، چلو“ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر آئے، وہ اپنے گھر میں نہیں تھا، اس کی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ کہنے لگی: آئیے آپ اچھے آئے اپنے لوگوں میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں شخص (اس کے خاوند کو فرمایا) کہاں گیا ہے۔؟“ وہ بولی ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہے۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا اجنبی عورت سے بات کرنا اور جواب دینا اس کو درست ہے عذر سے۔ اسی طرح عورت کا اس مرد کو گھر میں بلا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو) اتنے میں وہ مرد انصاری آ گیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا: شکر ہے اللہ کا آج کے دن کسی کے پاس ایسے عزت والے مہمان نہیں ہیں، جیسے میرے پاس ہیں۔ پھر گیا اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آیا جس میں گدر، سوکھی اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگا: اس میں سے کھائیے، پھر اس نے چھری لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ والی بکری مت کاٹنا۔“ اس نے ایک بکری ذبح کی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجور بھی کھائی اور پانی پیا، جب سیر ہوئے کھانے اور پینے سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم سے سوال ہو گا اس نعمت کا قیامت کے دن، تم اپنے گھروں سے نکلے بھوک کے مارے پھر نہیں لوٹے یہاں تک کہ تم کو یہ نعمت ملی۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں