صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۴ - بھوک، نعمت اور جواب دہی
بھوک سے نعمت تک: قیامت کے دن سوال کی یاد دہانی
صحیح مسلم : ۵۳۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۴
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ يَعْنِي المُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَقْعَدَكُمَا هَاهُنَا ، قَالَا : أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۴ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کو دوبارہ بیان کرتی ہے کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھوک کی وجہ سے بیٹھے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آگے واقعہ اسی طرح ہے کہ ایک انصاری کے گھر کھانا، کھجور اور پانی ملا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں اس نعمت کے بارے میں قیامت کے دن سوال کا ذکر فرمایا۔ نعمت کا سوال حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ کھانا پینا چھوڑ دو، بلکہ یہ یاد دلاتی ہے کہ جو کچھ ملے اسے اللہ کی نعمت سمجھو۔ بھوک کے بعد سیر ہونا، ٹھنڈا یا میٹھا پانی ملنا، اور کسی کا دل سے مہمان بنانا، سب شکر کے قابل ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھوک انسان کو نعمت کی قدر زیادہ محسوس کرا سکتی ہے۔
- کھانا اور پانی ملنے پر شکر کا احساس ہونا چاہیے۔
- قیامت کے دن نعمت کے بارے میں سوال کا ذکر آیا ہے۔
- میزبان کی خوشی اور مہمانوں کی عزت بھی روایت میں ظاہر ہے۔
