صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۵ - غزوہ خندق میں کھانے کی برکت

غزوہ خندق کا کھانا: تھوڑے رزق میں برکت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۵

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا ، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي ، فَقُلْتُ لَهَا : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا ، فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ ، قَالَ : فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتْ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي ، فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَتْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا ، فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَكَ ، فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ : " إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَكُمْ سُورًا فَجِئْتُ بِكُمْ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ " ، فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي ، فَقَالَتْ : بِكَ وَبِكَ ، فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي ، فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا ، فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا ، فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا " وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا ، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَتَنَا أَوْ كَمَا ، قَالَ الضَّحَّاكُ : لَتُخْبَزُ كَمَا هُوَ .

جابر بن عبداللہ روایت:

جب خندق کھودی گئی (مدینہ کے گرد) تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا۔ میں اپنی بی بی کے پاس لوٹا اور کہا: تیرے پاس کچھ ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بھوکا پایا ہے۔ اس نے ایک تھیلہ نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس ایک بکری کا بچہ تھا پلا ہوا اور میں نے اس کو ذبح کیا اور میری عورت نے آٹا پیسا وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوئی، میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا۔بعد اس کے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹا، عورت بولی: مجھ کو رسوا نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے (یعنی کھانا تھوڑا ہے کہیں بہت سے آدمیوں کی دعوت نہ کر دینا) جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو چپکے سے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا ہمارے پاس تھا تیار کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر تشریف لائیے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اور فرمایا: ”اے خندق والو! جابر نے تمہاری دعوت کی ہے تو چلو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ہانڈی کو مت اتارنا اور آٹے کی روٹی مت پکانا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔پھر میں گھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ میں اپنی عورت کے پاس آیا وہ بولی: تو ہی ذلیل ہو گا اور تجھے ہی لوگ ذلیل اور برا کہیں گے۔ میں نے کہا: میں نے تو وہی کیا جو تو نے کہا تھا (پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاش کر دیا اور سب کو دعوت سنا دی۔) آخر اس نے وہ آٹا نکالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لب مبارک اس میں ڈالا اور برکت کی دعا کی، پھر ہماری ہانڈی کی طرف چلے اس میں بھی تھوکا اور برکت کی دعا کی۔بعد اس کے فرمایا: ”ایک روٹی پکانے والی اور بلا لے جو تیرے ساتھ مل کر پکائے (میری عورت سے فرمایا) اور ہانڈی میں سے ڈوئی نکال کر نکالتی جا اس کو اتار مت، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے تو میں قسم کھاتا ہوں کہ سب نے کھایا یہاں تک کہ چھوڑ دیا اور لوٹ گئے اور ہانڈی کا وہی حال تھا ابل رہی تھی اور آٹا بھی ویسا ہی تھا اس کی روٹیاں بن رہی تھیں۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں غزوہ خندق کے موقع کا واقعہ ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھوک کا اثر دیکھا تو گھر جا کر اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ کچھ کھانے کو ہے؟ ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ موجود تھا۔ انہوں نے چپکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چند لوگوں کے ساتھ آنے کی دعوت دی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ خندق کو بھی بلا لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹے اور ہانڈی میں برکت کی دعا فرمائی اور ہدایت دی کہ ہانڈی نہ اتاری جائے۔ روایت کے مطابق ایک ہزار لوگوں نے کھایا، پھر بھی ہانڈی ابل رہی تھی اور آٹا پک رہا تھا۔ یہ حدیث کھانے میں برکت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کو صاف بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک دیکھ کر کھانے کا انتظام کیا۔
  • تھوڑے کھانے پر برکت کی دعا کی گئی۔
  • اہلِ خندق نے کھایا اور کھانا باقی رہا۔
  • حدیث میں ہدایات پر عمل کرنے کا پہلو بھی نمایاں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں