صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۱ - کھانے کی برکت اور ہمسایوں کا حق

کھانے کی برکت کی حدیث: بچا ہوا کھانا ہمسایوں تک پہنچانا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۲۱

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَأَفْضَلُوا مَا أَبْلَغُوا جِيرَانَهُمْ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور گھر والوں نے کھایا اور اتنا کھانا بچا کہ اپنے ہمسایوں کو بھیجا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۱ کا خلاصہ

اس روایت کا مرکزی مضمون کھانے کی برکت اور ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا، گھر والوں نے بھی کھایا، پھر اتنا کھانا بچ گیا کہ ہمسایوں کو بھیجا گیا۔ یہ بات بہت آسان انداز میں ہمیں بتاتی ہے کہ رزق کو صرف اپنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ جب کھانے میں گنجائش ہو تو قریبی لوگوں کو یاد کرنا اچھا عمل ہے۔ اس حدیث میں کھانے کی برکت کی حدیث، ہمسایوں کا حق، اور کھانا تقسیم کرنے کی سنت جیسے اہم الفاظ قدرتی طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہاں اصل سبق یہی ہے کہ گھر کی نعمت میں دوسروں کا بھی خیال رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانا بچ جائے تو ہمسایوں کو یاد کرنا اچھا عمل ہے۔
  • گھر والوں کے ساتھ مل کر کھانا بھی اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
  • رزق میں برکت ہو تو اسے دوسروں تک پہنچانا پسندیدہ انداز ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں