صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۲ - بھوک، مہمان نوازی اور ہمسایوں کا خیال
مہمان نوازی کی حدیث: بھوک محسوس کر کے کھانا پیش کرنا
صحیح مسلم : ۵۳۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۲۲
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَأَظُنُّهُ جَائِعًا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَهْدَيْنَاهُ لِجِيرَانِنَا .
انس بن مالک روایت:
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا مسجد میں لیٹے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیٹ کو پیٹھ بناتے (یعنی اس کو زمین سے لگاتے) پس آئے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے اور پیٹ کو پیٹھ بنا رہے ہیں اور سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں، پھر بیان کیا حدیث کو۔ اس میں یہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اور کچھ بچ رہا تو ہم نے اپنے ہمسایوں کو حصہ بھیجا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک نرم اور محبت بھرا انداز سامنے آتا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا اور سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں۔ پھر وہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کھانے کا انتظام ہوا۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، ابو طلحہ، ام سلیم اور انس رضی اللہ عنہم نے بھی کھایا، پھر کچھ کھانا بچ گیا تو ہمسایوں کو حصہ بھیجا گیا۔ یہ مہمان نوازی کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کسی کی ضرورت محسوس کرنا، خاموشی سے مدد کرنا، اور کھانے میں ہمسایوں کو شریک کرنا نیک عادت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی بھوک یا ضرورت محسوس ہو تو مدد کی کوشش کرنی چاہیے۔
- مہمان کو عزت سے کھانا پیش کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
- کھانا بچ جائے تو ہمسایوں کو حصہ دینا اچھا طریقہ ہے۔
