صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۳ - بھوک میں ایثار اور تھوڑے کھانے کی قدر
ایثار کی حدیث: تھوڑا کھانا بھی محبت سے پیش کرنا
صحیح مسلم : ۵۳۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۲۳
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ ، قَالَ أُسَامَةُ : وَأَنَا أَشُكُّ عَلَى حَجَرٍ ، فَقُلْتُ : لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ ؟ ، فَقَالُوا : مِنَ الْجُوعِ ، فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ : قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : مِنَ الْجُوعِ ، فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي ، فَقَالَ : هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ ، فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ ، وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ ، قَلَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ .
انس بن مالک روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن آیا۔ میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہیں اور پیٹ پر ایک پٹی باندھے ہیں۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ پتھر کا بھی ذکر کیا یا نہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے پوچھا: یہ پٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں باندھی ہے؟ اس نے کہا: بھوک کی وجہ سے میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ خاوند تھے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے جو ملحان کی بیٹی تھی اور میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ نے اپنے پیٹ پر ایک پٹی باندھی ہے۔ میں نے آپ کے ایک صحابی سے پوچھا تو اس نے کہا: بھوک کی وجہ سے باندھی ہے۔یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری ماں کے پاس گئے اور پوچھا: تیرے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ وہ بولی: ہاں کچھ ٹکرے ہیں روٹی کے اور کچھ کھجوریں ہیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ کو پیٹ بھر کر کھلا سکتے ہیں اور جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے تو کھانا کم پڑے گا۔ پھر بیان کیا حدیث کو پورے قصہ کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں بھوک، فکر مندی اور ایثار کا پہلو صاف نظر آتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کے ساتھ بیٹھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پٹی بندھی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ بھوک کی وجہ سے ہے۔ انس رضی اللہ عنہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ ابو طلحہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے بتایا کہ روٹی کے کچھ ٹکڑے اور چند کھجوریں ہیں۔ اس حدیث میں ایثار کی حدیث، بھوک کی حدیث، اور تھوڑے کھانے کی برکت جیسے موضوعات آتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ موجود ہو، محبت کے ساتھ پیش کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت مند کی حالت معلوم ہو تو خاموش نہ رہا جائے۔
- کم کھانا ہو تب بھی نیک نیت سے پیش کیا جا سکتا ہے۔
- گھر والوں کا مل کر خیر کے کام میں حصہ لینا اچھا ہے۔
