صحیح مسلم حدیث ۵۳۳ - امت کی مثال اور قیامت کا بیان

سفید اور سیاہ بال کی مثال سے امت کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۳

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُمَا ، قَالَا : مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ ، إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ ، وَلَمْ يَذْكُرَا : أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ .

‏‏‏‏ دوسری روایت کا بیان وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ ”تم اس دن اور لوگوں کے سامنے ایسے ہو جیسے ایک سفید بال کالے بیل میں یا ایک سیاہ بال سفید بیل میں۔“ اور گدھے کے پاؤں کے نشان کا ذکر نہیں کیا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی ایک دوسری نقل ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے ہیں کہ تم اس دن لوگوں کے سامنے ایسے ہو گے جیسے کالے بیل میں سفید بال، یا سفید بیل میں سیاہ بال۔ اس روایت میں گدھے کے پاؤں کے نشان والی مثال ذکر نہیں کی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایات میں ایک ہی مضمون کے الفاظ میں معمولی فرق آ سکتا ہے، مگر اصل بات وہی رہتی ہے جو حدیث میں بیان ہو۔ یہاں اصل توجہ امت کی مثال پر ہے، جو نبی صلى الله عليه وسلم نے سمجھانے کے لیے دی۔ اس روایت کو پڑھتے ہوئے ہمیں متن میں موجود فرق کو نوٹ کرنا چاہیے اور اضافی بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت سابقہ حدیث کے مضمون کی دوسری نقل ہے۔
  • اس میں امت کی مثال سفید اور سیاہ بال سے دی گئی ہے۔
  • روایات کے الفاظ میں کبھی مختصر فرق آ سکتا ہے۔
  • حدیث کے متن میں جو مثال نہیں آئی، اسے اس روایت کا حصہ نہ سمجھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں