صحیح مسلم حدیث ۵۳۸۳ - کھانے کا عیب نہ نکالنے کی خوبصورت سنت

کھانے کا عیب نہ نکالنے کی حدیث: آدابِ طعام کا نرم سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۸۳

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَي مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کھانے کا عیب نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جی چاہتا تو کھا لیتے اور جی نہ چاہتا تو چپ رہتے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کا عیب نہیں نکالا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جی چاہتا تو کھا لیتے، اور اگر جی نہ چاہتا تو خاموش رہتے۔ یہ حدیث آدابِ طعام کا بہت صاف اور آسان اصول دیتی ہے۔ ہر کھانا ہر انسان کی پسند کے مطابق نہیں ہوتا، مگر ہر بات زبان سے کہنا ضروری نہیں۔ کھانے کا عیب نکالنا کبھی کھانا بنانے والے کو تکلیف دے سکتا ہے۔ اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ پسند آئے تو شکر کے ساتھ کھایا جائے، اور پسند نہ آئے تو خاموشی اختیار کی جائے۔ “کھانے کا عیب نہ نکالنے کی حدیث” ہمیں روزمرہ زندگی میں نرم لہجہ اور اچھا اخلاق سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانے میں عیب نکالنے سے بچنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
  • پسند آئے تو کھانا کھا لیا جائے، پسند نہ آئے تو خاموش رہنا کافی ہے۔
  • دسترخوان پر اچھا اخلاق دوسروں کے دل کا خیال رکھتا ہے۔
  • اپنی پسند یا ناپسند کو سخت الفاظ میں بیان کرنا ضروری نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں