صحیح مسلم حدیث ۵۳۸۴ - کھانے میں نرمی اور خاموشی کا ادب
کھانے کی برائی نہ کرنا: نبی صلى الله عليه وسلم کے آدابِ طعام
صحیح مسلم : ۵۳۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۸۴
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۸۴ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کا عیب نہیں نکالتے تھے۔ اگر کھانا پسند آتا تو تناول فرماتے، اور پسند نہ آتا تو خاموش رہتے۔ یہ بات گھروں، دعوتوں اور روزمرہ کے کھانے میں بہت مفید ہے۔ بہت سے لوگ کھانے پر فوراً تبصرہ کر دیتے ہیں، مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ناپسند چیز پر اعتراض کرنا اچھا ادب نہیں۔ “کھانے کی برائی نہ کرنا” صرف کھانے کا مسئلہ نہیں، یہ دوسروں کے احساس کا خیال رکھنے کا طریقہ بھی ہے۔ آدابِ طعام میں سادگی، شکر اور زبان کی نرمی شامل ہے۔ یہی اس روایت کا آسان اور عملی پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانے کے معاملے میں خاموشی کبھی اچھے اخلاق کا حصہ ہوتی ہے۔
- ناپسند کھانے کو برا کہنے کے بجائے چھوڑا جا سکتا ہے۔
- دسترخوان پر نرمی گھر کے ماحول کو بہتر بناتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہمارے لیے کھانے کے ادب کا نمونہ ہے۔
