صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۳ - حریر کی اجازت کی حد
حریر کی معمولی مقدار: طیلسان کی گھنڈیوں کا بیان
صحیح مسلم : ۵۴۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۱۳
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهُوَ عُثْمَانُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال : كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا هَكَذَا " ، وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ : بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ ، فَرُئِيتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ .
ابوعثمان روایت:
ہم عتبہ بن فرقد کے پاس تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان آیا اس میں لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں پہنے گا حریر مگر وہ شخص جس کو آخرت میں کچھ ملنے والا نہیں مگر اتنا درست ہے۔“ اور ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بتلایا اپنی دونوں انگلیوں سے جو انگوٹھے کے پاس ہیں جتنے گھنڈیاں ہوتی ہے طیالسہ کی پھر میں نے طیالسہ کو دیکھا۔ (طیالسہ جمع ہے طیلسان اور وہ سیاہ چادریں ہیں عرب کی)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوعثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عتبہ بن فرقد کے پاس تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا۔ اس میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل تھا کہ حریر وہ نہیں پہنے گا مگر جس کا آخرت میں حصہ نہیں، مگر اتنی مقدار درست ہے۔ ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دو انگلیوں سے اس مقدار کو سمجھایا، اور بعد میں طیلسان کی گھنڈیوں کی مثال دیکھی گئی۔ اس روایت میں حریر کی ممانعت کے ساتھ ایک چھوٹی مقدار کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے ریشمی لباس کی حدیث کو سمجھتے وقت مکمل لباس اور معمولی لگے ہوئے حصے میں فرق نوٹ کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حریر پہننے سے متعلق سخت تنبیہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے نقل ہوئی ہے۔
- حدیث میں بہت تھوڑی مقدار کی گنجائش کا اشارہ بھی موجود ہے۔
- صحابہ کرام اشاروں اور عملی مثالوں سے حکم سمجھاتے تھے۔
- لباس کے چھوٹے حصے اور پورے لباس کا حکم ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔
