صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۱ - عیش سے بچنا اور حریر کی حد
عیش سے بچو، حریر سے بچو: سیدنا عمر کا خط
صحیح مسلم : ۵۴۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۱۱
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ ، فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلَبُوسَ الْحَرِيرَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ ، قَالَ : إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ وَضَمَّهُمَا " ، قَالَ زُهَيْرٌ : قَالَ عَاصِمٌ : هَذَا فِي الْكِتَابِ ، قَالَ : وَرَفَعَ زُهَيْرٌ إِصْبَعَيْهِ .
ابوعثمان روایت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم کو لکھا ہم آذربائیجان میں تھے (وہ ایک ملک ہے ایران میں) اے عتبہ بن فرقد! یہ جو مال تیرے پاس ہے نہ تیرا کمایا ہوا ہے، نہ تیرے باپ کا، نہ تیری ماں کا، تو سیر کر مسلمانوں کو ان کے ٹھکانوں میں جیسے تو سیر ہوتا ہے اپنے ٹھکانے میں (یعنی بغیر طلب کے ان کو پہنچا دے) اور بچو تم عیش کرنے سے اور مشرکوں کی وضع سے اور ریشمی کپڑا پہننے سے مگر اتنا اور اٹھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور کلمہ کی انگلی کو اور ملا لیا ان کو۔ (یعنی دو انگل حریر اگر حاشیہ میں یا اور کہیں لگا ہو تو درست ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط نقل ہوا ہے جو آذربائیجان میں موجود لوگوں کے نام تھا۔ انہوں نے عتبہ بن فرقد کو یاد دلایا کہ جو مال تمہارے پاس ہے وہ صرف تمہاری ذاتی کمائی نہیں، اس لیے مسلمانوں کو بھی اپنے ٹھکانوں میں اسی طرح کھلاؤ جیسے تم خود کھاتے ہو۔ پھر انہوں نے عیش و آرام، مشرکوں کی وضع، اور ریشمی لباس سے بچنے کی نصیحت کی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حریر پہننے سے منع فرمایا، مگر انگلیوں کے اشارے سے تھوڑی مقدار کی گنجائش بتائی گئی۔ اس روایت میں حریر کا حکم، سادگی، اور مسلمانوں کے حقوق تینوں باتیں بہت صاف انداز میں آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال اور سہولت میں دوسروں کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔
- عیش و آرام میں حد سے بڑھنے سے بچنے کی نصیحت کی گئی ہے۔
- حریر پہننے سے منع کیا گیا، مگر معمولی مقدار کا اشارہ آیا ہے۔
- مسلمانوں کے معاملے میں انصاف اور سادگی دونوں اہم ہیں۔
