صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۰ - دنیا میں حریر، آخرت کا لباس
حریر نہ پہنو: دنیا اور آخرت کا سبق
صحیح مسلم : ۵۴۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۱۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ ، يقول : أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .
عبداللہ بن زبیر روایت:
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ خطبہ پڑھتے تھے اور کہتے تھے خبردار ہو اے لوگو! مت پہناؤ اپنی عورتوں کو ریشمی کپڑے کیونکہ میں نے سنا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے تھے میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مت پہنو حریر کیونکہ جو کوئی دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ خطبہ میں لوگوں کو حریر کے بارے میں تنبیہ کرتے ہیں۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی بات نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: حریر نہ پہنو، کیونکہ جو اسے دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام ریشمی لباس سے بچنا اور آخرت کی فکر رکھنا ہے۔ یہاں بات صرف لباس کی خوبصورتی تک محدود نہیں، بلکہ اس بات تک جاتی ہے کہ مسلمان اپنی خواہشات کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے تابع رکھے۔ حریر کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی پسندیدہ چیز کے مقابلے میں آخرت کی کامیابی کو ترجیح دینی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حریر پہننے سے متعلق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ممانعت نقل کی گئی ہے۔
- لباس کے معاملے میں بھی آخرت کی فکر ہونی چاہیے۔
- خطبات میں لوگوں کو دین کی واضح بات یاد دلائی جا سکتی ہے۔
- دنیا کی پسند کے مقابلے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کو ترجیح دینی چاہیے۔
