صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۱ - ریشمی لباس اور آخرت کی فکر
ریشمی لباس کی حدیث: پہننے اور فائدہ اٹھانے کا فرق
صحیح مسلم : ۵۴۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا دیکھا مسجد کے دروازے پر تو کہا: یا رسول اللہ! آپ اس کو خرید لیتے اور پہنتے جمعہ کہ دن لوگوں میں اور جب باہر کے لوگ آتے ہیں تو بہتر ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ تو وہ پہننے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے۔“بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے ہی کئی جوڑے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا ان میں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ یہ مجھے پہناتے ہیں اور آپ ہی نے عطارد کے جوڑے میں ایسا فرمایا تھا (عطارد اس جوڑے کو بیچنے والے کا نام تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا اپنے ایک بھائی کو جو مشرک تھا مکہ میں دے دیا پہننے کو۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ریشمی لباس کا مسئلہ بہت صاف انداز میں سامنے آتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خوبصورت ریشمی جوڑا دیکھا اور چاہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اسے جمعہ یا وفود کے موقع پر پہنیں۔ مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ پہنے گا جس کا آخرت میں حصہ نہیں۔ بعد میں جب اسی طرح کے جوڑے آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا، مگر ساتھ ہی بتا دیا کہ یہ پہننے کے لیے نہیں دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قیمتی چیز پہننے کے لیے نہیں ہوتی۔ بعض چیزوں سے بیچ کر یا کسی اور جائز طریقے سے فائدہ لیا جا سکتا ہے۔ اصل بات حریر پہننے سے بچنا اور آخرت کی فکر رکھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ریشمی لباس کے معاملے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
- کسی چیز کا مل جانا یہ لازم نہیں کرتا کہ اسے خود پہنا بھی جائے۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم سن کر فوراً وضاحت چاہی، یہ دین سمجھنے کا اچھا انداز ہے۔
- قیمتی چیز سے فائدہ اٹھانا اور اسے پہننا دونوں الگ باتیں ہو سکتی ہیں۔
