صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۹ - دیباج پہننا نہیں، بیچنا
دیباج کی قبا: پہننے کے بجائے بیچنے کی تعلیم
صحیح مسلم : ۵۴۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۱۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، ويحيى بن حبيب ، وحجاج بن الشاعر ، واللفظ لابن حبيب ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ : قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ " ، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي ، قَالَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ " ، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز دیباج کی قبا پہنی جو تحفہ میں آئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت نکال ڈالی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دی۔ لوگوں نے کہا: آپ نے یہ نکال ڈالی یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل نے مجھ کو منع کیا۔“یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! جس چیز کو آپ نے ناپسند کیا مجھ کو دی۔ میرا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو پہننے کو نہیں دی۔ میں نے اس لیے دی کہ تم اس کو بیچ ڈالو۔“ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دو ہزار درہم میں بیچ دی۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دیباج کی ایک قبا پہنی جو تحفے میں آئی تھی، پھر فوراً اتار دی۔ جب وجہ پوچھی گئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے اس سے منع کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے وہ قبا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے کہ جس چیز کو آپ نے ناپسند کیا وہ مجھے دے دی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے صاف فرمایا کہ میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، بلکہ بیچنے کے لیے دی ہے۔ اس روایت میں دیباج، ریشمی لباس، اور بیچ کر فائدہ لینے کا فرق بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ممانعت معلوم ہوتے ہی دیباج کی قبا اتار دی۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی ناپسندیدگی کو بہت سنجیدہ لیا۔
- قبا پہننے کے لیے نہیں بلکہ بیچنے کے لیے دی گئی تھی۔
- حکم واضح ہو جائے تو عمل میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
