صحیح مسلم حدیث ۵۴۲۰ - ریشمی جوڑا اور عورتوں کے سربند
ریشمی جوڑا پہننا نہیں، عورتوں کے سربند بنانا
صحیح مسلم : ۵۴۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۲۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا ، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ " .
علی المرتضیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جوڑا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے بھیج دیا۔ میں نے اس کو پہنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس لیے نہیں بھیجا کہ تو پہنے بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ پھاڑ کر اپنی عورتوں کے سربندھن بنا دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۴۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس ریشمی جوڑا آیا، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے وہ انہیں بھیج دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے پہن لیا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چہرے پر ناراضی ظاہر ہوئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں بھیجا، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے درمیان سربند بنا دو۔ اس روایت میں ریشمی لباس کی حدیث کا ایک عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ ریشمی جوڑا ملنے کے باوجود اسے خود پہننا درست مقصد نہیں تھا۔ مقصد ایک دوسرا استعمال تھا، جسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صاف الفاظ میں بیان فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ریشمی جوڑا بھیجے جانے کا مقصد خود پہننا نہیں تھا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ناراضی کے بعد بات صاف الفاظ میں سمجھائی۔
- کپڑے کے استعمال میں نیت اور مقصد دونوں اہم ہو سکتے ہیں۔
- جو استعمال بتایا جائے، اسی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
