صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۷ - حریر سے فائدہ، پہننا نہیں
حریر سے فائدہ اٹھانا: حدیث کا آسان مطلب
صحیح مسلم : ۵۴۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۷
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ”میں نے تم کو اس لیے بھیجا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لیے نہیں بھیجا کہ تم پہنو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۷ کا خلاصہ
اس روایت میں پہلے بیان ہونے والے واقعے کی مزید صاف عبارت آئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ریشمی جوڑا بھیجا، مگر یہ بھی واضح فرما دیا کہ اسے پہننے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس جملے سے ریشمی لباس کی حدیث کا مرکزی نکتہ سمجھ آتا ہے۔ کبھی کوئی چیز آدمی کے پاس آتی ہے، مگر اس کا استعمال ہر صورت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ حریر، دیباج یا ریشمی جوڑا اگر پہننے کے لیے منع ہو تو اسے بیچ کر یا دوسرے جائز کام میں لا کر فائدہ لیا جا سکتا ہے۔ اس روایت میں حکم کے ساتھ ساتھ غلط فہمی دور کرنے کا انداز بھی بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پہننے اور فائدہ اٹھانے میں فرق صاف فرمایا۔
- کسی چیز کے ملنے سے اس کے ہر استعمال کی اجازت ثابت نہیں ہوتی۔
- حکم کی وضاحت دینا اور لینا دونوں اہم ہیں۔
- ریشمی لباس کے معاملے میں احتیاط روایت کا اصل سبق ہے۔
