صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۸ - استبرق سے مال حاصل کرنا
استبرق کی حدیث: ریشمی کپڑے سے مال حاصل کرنا
صحیح مسلم : ۵۴۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۸
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال : قَالَ لِي : سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول : رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ : إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا .
یحییٰ بن ابی اسحاق روایت:
مجھ سے سالم بن عبداللہ نے استبرق کے بارے میں پوچھا: میں نے کہا استبرق وہ سنگین دیباج ہے اور سخت۔ سالم نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے ایک جوڑا استبرق کا دیکھا اس شخص پر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے پھر بیان کیا ویسا ہی جیسے اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ”میں نے تجھے اس لیے بھیجا تھا کہ تو اس سے مال حاصل کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۸ کا خلاصہ
اس روایت میں پہلے استبرق کا مطلب بھی بیان ہوا کہ یہ دیباج کی ایک موٹی اور سخت قسم ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے وہی واقعہ بیان ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے استبرق کا جوڑا دیکھا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے بات رکھی۔ اس کے بعد جب ایسا کپڑا بھیجا گیا تو وضاحت فرمائی گئی کہ یہ پہننے کے لیے نہیں بلکہ اس سے مال حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اس حدیث میں ریشمی لباس، استبرق اور دیباج کے الفاظ آتے ہیں، مگر اصل پیغام ایک ہے: جس چیز کے پہننے سے روکا گیا ہو، اس سے کسی دوسرے جائز طریقے سے فائدہ لیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استبرق بھی ریشمی کپڑے کی قسم کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- کپڑے کا نام اور نوعیت جاننا حکم سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
- ریشمی کپڑے سے مال حاصل کرنا پہننے سے الگ ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی وضاحت غلط فہمی کو ختم کر دیتی ہے۔
